حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر کی گئی فوجی کاروائیوں اور ایران کے خلاف دی گئی دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک خودمختار ریاست پر بمباری اور محاصرہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے خلاف امریکی جارحیت بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، وینزویلا کا سامراجی محاصرہ اور فوجی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کے جنگجویانہ اور سامراجی ایجنڈے کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں سفارت کاری کے بجائے تیل کے مفادات اور اندرونی سیاسی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ بیرونِ ملک طاقت کا مظاہرہ دراصل اندرونِ امریکہ کمزور ہوتی قیادت اور سیاسی انتشار پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی اشتعال انگیز دھمکی کو بھی دوغلی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہروں کے نام پر کسی خودمختار ملک میں مداخلت کی بات کرنا کھلی منافقت ہے، خصوصاً اس شخص کی جانب سے جس کا اپنا ماضی اختلافِ رائے کو دبانے اور تشدد کو ہوا دینے سے بھرا پڑا ہے، ٹرمپ کی ’’لاکڈ اینڈ لوڈڈ‘‘ جیسی زبان ایک عالمی غنڈہ گردی کی عکاس ہے، جو دنیا کو بلا ضرورت جنگ اور تصادم کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس کا مقصد صرف طاقت کا مظاہرہ اور ذاتی سیاسی تشہیر ہے، جبکہ نوبل امن انعام کی خواہش ایک کھلا تضاد بن چکی ہے۔
سربراہ مجلس وحدت مسلمین نے عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی جارحیت کا نوٹس لیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دیں۔ دنیا مزید جنگوں کی متحمل نہیں ہو سکتی اور سامراجی عزائم کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے، پاکستان سمیت تمام آزاد اور خوددار اقوام کو مظلوم ممالک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور عالمی امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے مشترکہ آواز بلند کرنی چاہیے۔









آپ کا تبصرہ